
برطانیہ کے نئے سفری قوانین کے تحت دہری شہریت کے حامل نوجوانوں کے لیے مشکلات پیدا ہوگئیں۔
برطانیہ کے نئے سرحدی قوانین نے ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد برطانوی نوجوان بیرونِ ملک پھنس گئے ہیں اور اپنے وطن واپس آنے سے قاصر ہیں۔
دہری شہریت رکھنے والوں کے لیے اچانک سخت کیے گئے قوانین نے ناصرف طلبہ بلکہ خاندانوں کو بھی شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ دہری شہریت کے حامل شہریوں کو برطانوی پاسپورٹ دکھانا لازمی ہے، ڈنمارک، اسپین اور ممبئی سمیت مختلف ممالک میں شہریوں کو پروازوں سے روک دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں کئی کیسز سامنے آئے ہیں جہاں نوجوان صرف اس وجہ سے برطانیہ واپس نہیں آ سکے کیونکہ ان کے پاس برطانوی پاسپورٹ موجود نہیں تھا۔
ایک 16 سالہ طالبہ کو ڈنمارک سے برطانیہ جانے والی پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا، جس کے باعث وہ 2 ہفتوں سے اسکول نہیں جا سکی۔
اسی طرح آکسفورڈ شائر سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ طالبہ میڈرڈ میں پھنس گئی کیونکہ وہ نئے قوانین کے مطابق برطانوی پاسپورٹ حاصل نہیں کر سکی تھی۔
