
میری ٹائم ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق 2 سپر آئل ٹینکرز اور 1 ایل این جی بردار جہاز گزشتہ روز مشرقی سمت میں آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے، یہ تینوں جہاز دنیا کے بڑے ترین آئل ٹینکرز میں شمار ہوتے ہیں جبکہ جنگ شروع ہونے کے بعد خلیج سے نکلنے کی کوشش کرنے والا یہ پہلا ایل این جی کیریئر بتایا جا رہا ہے۔
تمام جہاز عمان شپ مینجمنٹ کمپنی کے زیرِ انتظام ہیں اور سفر کے دوران خود کو عمانی ملکیت ظاہر کر رہے تھے جہازوں نے عمان کے مسندم جزیرہ نما کے قریب پہنچتے ہی تقریباً صبح 9 بج کر 30 منٹ پر لندن کے وقت کے مطابق اپنی خودکار لوکیشن کے سگنلز بند کر دیے جس کے بعد ان کی درست پوزیشن واضح نہیں رہی۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز عملی طور پر تنازع کے آغاز سے محدود ہو چکی ہے تاہم ایران چند دوست ممالک سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو اپنی نگرانی میں مخصوص شمالی راستے سے گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔
ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان جہازوں کی آمد و رفت کی نگرانی کے لیے نیا پروٹوکول تیار کیا جا رہا ہے۔۔
