
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہونے سے سری لنکا میں ایندھن کی قلت اور مہنگائی میں تیزی آ گئی ہے جس نے عوام کو 2022ء کے معاشی بحران کی یاد دلا دی۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت محدود کر دی تھی جہاں سے سری لنکا اپنی توانائی کی 60 فیصد ضروریات درآمد کرتا ہے اور اس کے پاس صرف ایک ماہ کا ایندھن کا ذخیرہ موجود ہے۔
سری لنکن حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے دوبارہ کیو آر کوڈ پر مبنی راشن نظام نافذ کر دیا ہے۔
نئے نظام کے تحت موٹر سائیکل کو ہفتہ وار 8 لیٹر، ٹُک ٹُک (رکشہ) کو 20 لیٹر، کار کو 25 لیٹر، بسوں کو 100 لیٹر ڈیزل اور لاریوں (ڈمپرز) کو 200 لیٹر ڈیزل دیا جا رہا ہے۔
