وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ 25 کروڑ کی آبادی کو حکومت روزگار نہیں دے سکتی، حکومت کا کام نوکریاں دینا نہیں، نجی شعبہ ہی روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔

لاہور میں ایف پی سی سی آئی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت آئے گی، محصولات میں اضافہ ہو گا، تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس دیتا ہے، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں کام ہو رہا ہے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کر رہے ہیں، ہم ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو الگ اور تعمیرات کے سیکٹر کو الگ دیکھتے ہیں، تعمیراتی سیکٹر سے دیگر سیکٹرز منسلک ہیں، جہاں بھی آپ کو دقت ہو گی ہم مسائل کو حل کریں گے۔ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، ملکی معیشت پر عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی نظم و ضبط کے لیے سخت مگر ضروری فیصلے کیے، پاکستان کی معیشت ڈیفالٹ کے خطرے سے دو چار تھی، 2022ء کے سیلاب نے ہماری معیشت پر گہرا اثر ڈالا مگر 2025ء کے سیلاب کے نقصانات کو برداشت کرنے کے ہمارے پاس وسائل موجود تھے۔

Total
0
Shares
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts
— فائل فوٹو

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اندازے کے مطابق نقصان کا تخمینہ براڈ کاسٹرز گیٹ منی اور دیگر اسپانسر شپ کی مد میں لگایا گیا، پاک بھارت میچ کی بحالی کے فیصلے کے فوری بعد ممبئی اور کولمبو کے ایئر ٹکٹ میں اضافہ دیکھا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی اور کولمبو کے ٹکٹ میں ابتدائی طور پر 10 سے 60 ہزار روپے تک کا اضافہ ہوا ہے اور پاک بھارت میچ کی وجہ سے کولمبو میں ہوٹل انڈسٹری نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کئی کرکٹ شائقین نے پاکستان کے میچ کے بائیکاٹ کے بعد ہوٹل کی بکنگ منسوخ کرنے کے لیے رابطے بھی کیے ہیں جبکہ کئی کرکٹ شائقین پاک بھارت میچ کے ٹکٹوں کی ری فنڈنگ کی پالیسی کے حوالے سے معلومات حاصل کر رہے تھے۔