
لاہور میں ایف پی سی سی آئی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سے شفافیت آئے گی، محصولات میں اضافہ ہو گا، تنخواہ دار طبقہ زیادہ ٹیکس دیتا ہے، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں کام ہو رہا ہے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کر رہے ہیں، ہم ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو الگ اور تعمیرات کے سیکٹر کو الگ دیکھتے ہیں، تعمیراتی سیکٹر سے دیگر سیکٹرز منسلک ہیں، جہاں بھی آپ کو دقت ہو گی ہم مسائل کو حل کریں گے۔ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، ملکی معیشت پر عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی نظم و ضبط کے لیے سخت مگر ضروری فیصلے کیے، پاکستان کی معیشت ڈیفالٹ کے خطرے سے دو چار تھی، 2022ء کے سیلاب نے ہماری معیشت پر گہرا اثر ڈالا مگر 2025ء کے سیلاب کے نقصانات کو برداشت کرنے کے ہمارے پاس وسائل موجود تھے۔
